بھارتی جنونی ٹولہ کشمیریوں کوانکےقانونی حق سےمحروم نہیں کرسکتا۔ راجہ جاوید اقبال(خصوصی مشیر وزیراعطم اورسیز )کا کشمیر کانفرنس سے خطاب

برمنگھم (انول نیوز) وزیر اعظم آزاد جمعوں و کشمیر راجہ فاروق حیدر کے معاون خصوصی وزیر ایم ا اے اورسیز راجہ جاوید اقبال نے کا کشمیر کانفرنس سے خطاب کرتے ھوے کہا  کہ کشمیریوں کا قتل عام مہذب دنیا کا امتحان ہے، بھارت ظلم و جبرسے کشمیریوں کا حق استصواب رائے کچل نہیں سکتا۔

راجہ جاوید اقبال نے کہا کہ حمایت نے دنیا کو پھر کشمیریوں کے جمہوری حق کی طرف متوجہ کیا، اوآئی سی کا اظہار یکجہتی دنیا کے لیے فوری مؤثر کردار ادا کرنے کا پیغام ہے۔

واضح رہے کہ اورسیز ایم ایل اے راجہ جاوید اقبال نے اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہیتی اور بھارت کے ظلم و بربر یت کے خلاف فوری طور پر ایک کانفرنس کا انعقاد کیا جسمیں پاکستان اور کشمیر کی تمام جماعتوں کے نمائیندگان کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سب نے اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ھوے کہا کہ ھم سب اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ھیں ھم دنیا کے ھر پلیٹ فارم پر انکی آواز بنیں گے۔

اس موقع پر راجہ جاوید اقبال نے کہا کہ بھارتی جنونی ٹولہ کشمیریوں کوانکےقانونی حق سےمحروم نہیں کرسکتا۔ پاکستان کابچہ بچہ کشمیریوں کے لئے کٹ مرنے کوتیارہے۔

صاحبزادہ فاروق احمد قادری نے کہا کہ عالمی برادری کو جمہوریت سے اپنی وابستگی کا ثبوت دینا ہوگا، یو این قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خدرادیت دینا ھوگی۔ ھماری اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اخلاقی، سفارتی، سیاسی حمایت جاری رہے گی،

تمام دنیا کو یاد رکھنا چایئے کہ حق پرکھڑی قوم کوکوئی بندوق ، ظلم اورسازش شکست نہیں دے سکتی۔

راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر یوکے اس خصوصی کانگرنس سے خطاب کرتے ھوے کہا کہ دنیا کی خاموشی نے بھارت کو شہ دے دی ہے اور عالمی برادری کے سکوت سے فائدہ اٹھا کر وہ معصوم کشمیریوں پر ظلم و ستم میں اضافہ کرتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 70 سال سے بھارت کشمیر کے عوام کی آزادی کی جدوجہد کچلنے کی کوشش کر رہا ہے اور ناکام ہے۔

الحاج محمد غالب کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر کلسٹر بم گرا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کررہی ہے، مقبوضہ کشمیر میں نہتے اور بے گناہ شہریوں کو شہید کررہی ہے اس پر عالمی اداروں اور تنظیموں کو بھارتی جارحیت کا نوٹس لینا چاہئیے۔

سابقہ لارڈ مئیر برمنگھم سفیق شاہ کہا کہ شہری آبادی پر کلسٹر بموں کی بارش کر کے بھارت انسانی حقوق کی پامالی کی شرمناک سطح تک جا پہنچا ہے اور وہ کشمیر میں ایک نئی شرارت کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہندو انتہا پرستی کی سوچ رکھنے والی بھارتی قیادت لگتا ہے مسلسل ناکامی سے تنگ آکر ظلم اور بربریت کی انتہا کو پہنچے والے ہیں. انشاللہ ان کے یہ ارادے خاک ہو جائیں گے.

کشمیری نوجوان راہنماہ راجہ جانباز قادری نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے پوری کشمیری قوم میں تشویش پائی جاتی ہے تمام کشمیری مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم دشت گردی کے حوالے پریشان ہیں۔ انشا اللہ 9 ۔ اگست کو جمعہ والے دن انڈیا کے کونسلیٹ کے سامنے تین بجے ایک پر امن مظاہرہ کیا جائے گا

سمیرہ فرخ نے کہا کہ معصوم بچوں ،خواتین پر کلسٹر بموں سے حملے کرکے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے، سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو پامال کیا ہے، پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کی بھرپور مذمت کرتی ہے اور کشمیر کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑی ہے۔

بلقیس صابر نے کہا کہ کلسٹر بم کی تباہ کاری سے نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے اور کلسٹر بم کا استعمال بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

راجہ علی اصغر نمبل کا کہنا تھا کہ بھارت کلسٹربم استعمال کرکےعالمی قوانین کی خلاف ورزی کررہاہے،کشمیرپاکستانیوں کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے، کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کامیاب ہوگی۔

راجہ مبارک کیانی نے  بھارت کے جارحانہ رویے کو خطے کے امن کیلئےخطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہری آبادی کوکلسٹر ایمونیشن سے نشانہ بنانا انتہائی بزدلانہ حرکت ہے۔

انہوں نے اس موقع پر کہا کہ مودی حکومت کو بے نقاب کرنےکیلیے موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے اور اس معاملے کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھانا چاہئیے۔

اس کے علاوہدیگر سیاسی جماعتوں لے رہنماؤں ، نمائیندگان نے کانفرنس سے خطاب کیا ان میں چوھدری محمد عظیم، چوھدری محمد خادم،چوھدری منظور، سردار آفتاب،زبیدہ خان، چوھدری غضنفر،قازی احسانالحق، چوھدری شاہ نواز، کونسلر ادریس، راجہ ریاض اختر، راجہ خضر الیاس، اختر مرزا، چوھدری محمد سلیم، راجہ علی اصغر نمبل، ملک فتح خان شامل ھیں۔

کانفرنس کے آخر میں، ایک اعلامیہ جاری کیا گیا، جمعہ کے روز برمنگھم اور ۱۵ اگست کو لندن میں انڈین ایمبیسی کے سامنے احتجاج کیا جائ گا۔

واضح رہے کہ آج بھارتی صدرنےمقبوضہ کشمیر کی 4 نکاتی ترامیم پردستخط کردیئے جس کے بعد بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہو گئی۔

 صدارتی حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیرکی علیحدہ قانون سازاسمبلی ہوگی ، لداخ کومقبوضہ کشمیر سےالگ کردیا گیا بھارتی صدرنے گورنرکا عہدہ ختم کردیا اوراختیارات کونسل آف منسٹرزکوتفویض کر دیئے ،کالے قانون میں مقبوضہ جموں کشمیرآج سےبھارتی یونین کاعلاقہ تصورہوگا ،کالےقانون میں مقبوضہ جموں کشمیراب ریاست نہیں کہلائے گی۔.