بھارتی بیانات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں: ترجمان پاکستانی فوج

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے دیے جانے والے غیر ذمہ دارانہ بیانات کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور پاکستان کی مسلح افواج کسی بھی جارحانہ کارروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

بالاکوٹ حملے اور بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کی پاکستان کے ہاتھوں گرفتاری کو ایک سال مکمل ہونے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دی، جو عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کی پہلی پریس بریفنگ تھی۔

انمول نیوز کے نامہ نگار علی اصغر کے مطابق ہال میں موجود صحافیوں کا یہ خیال تھا کہ شاید نئے ڈی جی آئی ایس پی آر کچھ سخت طبیعت کے مالک ہوں گے، لیکن یہ تجسس اس وقت ختم ہوا، جب میجر جنرل بابر افتخار نے آ کر تمام صحافیوں سے فرداً فرداً ملاقات کی اور کہا کہ ’آپ سب سے مل کر بہت اچھا لگ رہا ہے، آئندہ بھی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔‘

بریفنگ کے دوران گذشتہ برس پیش آنے والے اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 14 فروری کو پلوامہ میں بھارتی فورسز پر حملے کے بعد پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہر قسم کی تحقیقات کی پیشکش کی، لیکن 25 اور 26 فروری کی درمیانی شب بھارت نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی۔

بعدازاں 27 فروری کو پاکستانی فضائیہ کی کارروائی کےنتیجے میں بھارتی ونگ کمانڈر ابھی نندن کے جہاز مار گرائے جانے اور گرفتاری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’آج کا دن یوم تشکر بھی ہے اور یوم عزم بھی، جسے پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اس پر تمام پاکستانیوں کو فخر ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ خطرات اندرونی ہوں یا بیرونی جنگیں جذبہ حب الوطنی اور سپاہیوں کی کارکردگی کی بنیاد پر لڑی جاتی ہیں۔ ’ہم اپنے دشمنوں کی ہر حرکت سے بخوبی واقف ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’بھارت جو کھیل رہا ہے، پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت اس سے بخوبی آگاہ ہے۔‘

لائن آف کنٹرول کی صورت حال کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں ہماری کامیابیوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایل او سی پر بھارت کی جانب سے 384 سیزفائر کی خلاف ورزیاں ہوئیں جن میں کئی لوگ ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم ایک ذمہ دار اور پروفیشنل فورس ہیں۔ جب ہمیں اشتعال دلایا جاتا ہے تو ہم صرف ملٹری اہداف کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ بھارتی فورسز نہتی سول آبادی کو نشانہ بناتی ہیں۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا: ’ہم بھارت کی فوجی سرگرمیوں میں اضافے  کو نہایت سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ ہم ہر قیمت پر اپنی سالمیت اور خودمختاری کا دفاع کریں گے۔‘

’آزادی کی جدوجہد میں کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے‘

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تسلیم شدہ تنازع ہے، بھارت نے 73 سال سے اپنے زیر انتظام کشمیر میں ظلم و ستم کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، لیکن ظلم کے خلاف اٹھنے والی ان آوازوں کو اب دبایا نہیں جاسکتا۔‘

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے ایک مرتبہ پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اس کی قراردادوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا:’مسئلہ کشمیر کا حل نہ صرف ہمارا قومی مفاد ہے بلکہ ہماری قومی سلامتی کا ضامن بھی ہے۔ آزادی کی جدوجہد میں ہم کشمیریوں کے ساتھ تھے، ہیں اور رہیں گے۔‘

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں

دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پچھلے 20 سال میں افواج پاکستان اور ہماری انٹیلی جنس ایجنسیز نے بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ’ہم دنیا کا وہ ملک، وہ قوم اور وہ افواج ہیں جس نے نہ صرف دنیا میں امن کے لیے کام کیا بلکہ بے شمار قربانیاں بھی دیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ ’دہشت گروں کے خلاف جنگ میں ہم نے 1200 سے زائد چھوٹے اور بڑے آپریشن کیے، ڈیڑھ لاکھ کے قریب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے گئے، دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے خلاف آپریشنز کیے گئے جن کے دوران 17 ہزار سے زیادہ دہشت گرد مارے گئے اور 450  ٹن سے زیادہ بارودی مواد برآمد کیا گیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان آپریشنز کے دوران ایک ہزار سے زیادہ القاعدہ کے دہشت گرد پکڑے یا مارے گئے جبکہ 70 سے زیادہ افراد کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کی گئی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’آپریشن ردالفساد اس جنگ میں ایک اہم کڑی ہے، یہ ایک بہت مشکل مرحلہ ہے اور اس کا آخری مرحلہ ایک مستحکم، نارمل اور پرامن پاکستان ہے۔‘

انہوں نے مزید کہاکہ اس دوران اپنے ملک میں 46 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ بحال کیا گیا اور ریاست کی رٹ بحال کی۔ ’آج ملک میں ایسا کوئی کونہ نہیں جہاں سبز ہلالی پرچم نہ لہرا رہا ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پاکستان نے اس جنگ میں 180 ملین ڈالر سے زیادہ کا نقصان برداشت کیا ہے لیکن دہشت گردی سے سیاحت تک کا یہ سفر انتہائی متاثر کن اور پرعزم تھا اور اس سفر کے دوران پوری قوم نے دہشت گردوں کے اس بیانیے کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہم اپنے جھنڈے کے سفید رنگ کو انتہائی عزت و احترام سے دیکھتے ہیں، جس کا اظہار اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے کرتارپور کے دورے کے موقع پر بھی کیا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’پاکستان نے ایک طویل سفر طے کیا ہے، جس کے دوران بہت سی کامیابیاں ملیں اور قربانیاں بھی دی گئیں۔ اگر پاکستان کی خودمختاری اور سلامتی کو چیلنج کیا گیا تو افواج پاکستان کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گی۔‘

اس سوال کے جواب میں کیا پاکستان اور بھارت کی جنگ ہوسکتی ہے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’دونوں جوہری طاقتوں میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ اس کے نتائج بے قابو ہوں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’جب بھی بھارت نے اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا ہے ہم نے اس کا بھرپور جواب دیا ہے لیکن ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا یہ خطہ جنگ کا متحمل ہوسکتا ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ ’ہماری کوشش یہی ہے کہ امن کا راستہ اپنایا جائے لیکن بدقسمتی سے جس طرح کے بیانات وہاں سے آتے ہیں، ہم ان کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ہر قسم کے جواب کے لیے تیار ہیں۔‘