برطانیہ میں پارلیمنٹ کی معطلی پر ملک بھر میں احتجاج اور مظاہرے

لندن(انمول نیوز) بریگزٹ ڈیل کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم کے مشورے پر پارلیمنٹ کی معطلی کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔

پارلیمانی سیشن کی معطلی سے ملک بھر میں احتجاجی مہم شروع ہوگئی ہے اور یہ ایک قانونی مسئلہ ہے جب کہ پارلیمان کی معطلی کے خلاف درخواست پر دس لاکھ سے زائد دستخط کیے جاچکے ہیں۔

پارلیمان کی معطلی کے خلاف برطانیہ میں بدھ کی شام سے ہی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا جہاں مظاہرین پارلیمنٹ کے باہر جمع ہوئے، مظاہرین نے بریگزٹ کے خلاف پلے کارڈز اٹھارکھے تھے جب کہ مظاہرین نے پارلیمانی سیشن کی معطلی پر غیر آئینی تبدیلی روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ مظاہروں کی شروعات ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید شدت آئے گی۔اس حوالے سے برطانوی حکومت کا موقف ہے کہ ستمبر اور اکتوبر میں پانچ ہفتوں کے لیے پارلیمان کی معطلی سے بریگزٹ پر بحث کے لیے مزید وقت ملے گا۔

قائد ایوان جیکب ریس نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے مخالفین جعلساز ہیں اور وہ یورپی یونین کے ساتھ رہنا چاہتے تھے۔

حکومتی وزیر نے کہا کہ پارلیمانی سیشن کی معطلی یورپی یونین سے بغیر ڈیل کے علیحدگی میں اپوزیشن کو رکاوٹ بننے سے روکنے کے لیے سیاسی اقدام نہیں تھا۔