اپوزیشن کی رہبرکمیٹی کا اہم اعلان، عیدکےبعداےپی سی بلانےکافیصلہ

اسلام آباد (انمول نیوز) اپوزیشن کی رہبر کمیٹی نے اہم اعلان کردیا۔ رہبر کمیٹی کی جانب سے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)بلانے کافیصلہ کیاگیاہے۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کےارکان نےپارلیمنٹ ہاوس کے باہرگفتگو سےبات کرتے ہوئے کہاکہ عیدکےبعد مولانا فضل الرحمان اے پی سی بلائیں گے۔

میڈیاسے گفتگو میں اپوزیشن کی جانب سےنیئر بخاری،فرحت اللہ بابر، اکرم خان درانی، احسن اقبال،عثمان خان کاکڑ اور دیگر رہنما شریک ہوئے۔

رہبرکمیٹی کےسربراہ جمیت علمائےاسلامی کےرہنمااکرم خان درانی نےاظہارخیال کرتے ہوئے کہا  کہ اےپی سی اجلاس میں اسلام آباد میں احتجاج سمیت دیگرآپشنز پرغور ہوگا۔

اکرم درانی کاکہناتھاکہ رہبرکمیٹی کی جانب سےمریم نوازکی گرفتاری کی مذمت کرتےہیں،ملک کےتین بارکےمنتخب وزیراعظم کےسامنےاس کی بیٹی کوگرفتارکیاگیا،جس اندازمیں مریم نواز کو گرفتار کیا گیا اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

اکرم خان درانی نےاظہارخیال کرتے ہوئےکہاکہ جولوگ اپوزیشن کوکنٹینراورکھانادینےکےدعوے کرتے تھےآج ایک بیٹی سےخوفزدہ ہوگئے،حکومت ایک بیٹی کی بڑھتی مقبولیت سےخوفزدہ ہے۔

رہنماجمعیت علمائےاسلام نے کہاکہ کشمیرمیں بھارتی دراندازی عوام کےسامنےہے،سلیکٹڈ وزیراعظم نے پاکستان کی سلامتی کوشدیدخطرے سےدوچارکردیا ہے،جب ٹرمپ نےثالثی کی بات کی تو کچھ شرائط بھی رکھی ہوں گی، ثالثی سے قبل بھارت نےامریکا کواعتماد میں لیا تھا، سلیکٹڈ وزیراعظم نےکشمیر کا سودا کردیا ہے۔

اکرم درانی کاکہناتھا کہ اپوزیشن کودیوارسےلگادیا گیاہے، اپوزیشن پرحکومتی ارکان کی جانب سے حملے ہو رہے ہیں،حکومت کی کوشش ہےمتحد اپوزیشن کو کسی طرح توڑ دیں۔

انہوں نے کہاکہ کشمیری بھائیوں کو بتاتے ہیں کشمیر کےمعاملے پر اپوزیشن حکومت سے دس قدم آگے ہوگی، کشمیر کے معاملے پر اپوزیشن متحد رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں دہشتگرد دوبارہ مضبوط ہو رہے ہیں لیکن حکومت اس پر مکمل خاموش ہے۔

میڈیاٹاک کے دوران سربراہ رہبر کمیٹی نے کہاکہ سی پیک پاکستان کا مستقبل تھا، ایجنڈے کے تحت سی پیک منصوبے کو تباہ کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا کی خاطرحکومت نے چین کو ناراض کیا،حکومت نے ملک میں بدترین بےروزگاری لائی ہے،کرپشن کا حال بلین درخت منصوبے میں عیاں ہے۔

اکرم درانی کامزید کہناتھاکہ ہمارےادارے پشاوربی آرٹی میں کرپشن پرخاموش ہیں،حاصل بزنجوکو عدالت بلایا جارہا ہے۔ درحقیقت سینیٹ الیکشن میں اسٹیبلشمنٹ نے اپوزیشن کو ہرایا ہے۔

حکومت پرتنقید کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ  اپوزیشن پربدترین سنسرشپ ہے۔شہزاد اکبرمیڈیا پر تین گھنٹے براہ راست اپوزیشن کو گالیاں دیتے ہیں لیکن اپوزیشن کوجواب دینے کیلئے دس منٹ بھی نہیں دیے جاتے، اس ملک میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس پر میڈیا اپوزیشن کا ساتھ دے۔

اکرام خان درانی کاکہناتھاکہ پہلے وزیراعظم سلیکٹڈ تھے اب چیئرمین سینیٹ بھی سلیکٹڈ ہیں،چیئرمین سینیٹ کے خلاف دوبارہ عدم اعتماد کی قرارداد لانےکیلئے مشاورت جاری ہے۔ رہبر کمیٹی کا فیصلہ ہے کہ جن لوگوں نے سینیٹ الیکشن میں ووٹ بیچے ان کے خلاف جلد از جلد تحقیقات کریں، جن لوگوں نے ووٹ بیچے ان کے خلاف تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن میں دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی جائے گی، ایسی تمام سازشیں ناکام بنائی جائیں گی، اپوزیشن پکڑ دھکڑ سے نہیں ڈرتی، ایسے حالات حکومت پر آگئے تو یہ ملک سے بھاگ جائیں گے۔